اخروٹ توانائی اور غذائیت کے خزانے

71

اخروٹ کے طبی فوائد کا شمار کرنا مشکل ہے۔ یہ دماغ اور اعضائے رئیسہ کو قوت بخشتا ہے۔ اس کا مغز کھانسی میں مفید ہے۔ اخروٹ کا زیادہ استعمال اچھا نہیں۔ گرم ہونے کے باعث اخروٹ کو سردیوں میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے تاہم معقول مقدار میں اسے ہر موسم میں کھایا جا سکتا ہے۔ اجزا: ۔ سو گرام اخروٹ میں 654 حرارے ہوتے ہیں

اس مقدار میں چکنائی 65 گرام ہوتی ہے جبکہ کولیسٹرول نہیں ہوتا۔ اس مقدار میں پوٹاشیم 441 ملی گرام ہوتی ہے۔ کل کاربوہائیڈریٹس 14 گرام ہوتے ہیں جن میں سات گرام ریشہ اور 2.6 گرام شکرہوتی ہے۔ سوگرام اخروٹ میں پروٹین کی مقدار 15 گرام ہوتی ہے، جبکہ کیلشیم روزانہ کی غذائی ضروریات کا نو فیصد، میگنیزیم 39 فیصد اور فولاد 16 فیصد ہوتا ہے۔ اخروٹ کے مغز میں نصف سے زیادہ مقدار میں تیل ہوتا ہے جو بڑی غذائیت اور توانائی کا حامل ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں چونکہ موسم سرما کچھ زیادہ وقت کے لیے نہیں آتا پر جتنا وقت بھی رہتا ہے لوگ حسب توفیق میوہ جات استعمال کرکے سرد موسم سے محفوظ رہتے ہیں۔ استعمال: ۔سرد علاقوں کے لوگ اخروٹ کا بکثرت استعمال کرتے ہیں جس سے جسم میں حرارت کی سطح برقرار رہتی ہے۔ میدانی علاقوں میں حلوہ جات میں اخروٹ کا مغز ہر موسم میں شوق سے کھایا جاتا ہے۔ میٹھے پکوانوں، کیک، پیسٹری، مٹھائیوں کے علاوہ آئس کریم میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مختلف علاقوں کی ڈشوں میں بھی اخروٹ کا پیسٹ سالن میں استعمال کیا جاتا ہے۔ سوس اور کری بنانے کے علاوہ کھیر، زردہ، فرنی، پڈنگ اور کسٹرڈ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پیداوار: ۔اخروٹ کئی ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔
اخروٹ کی سب سے زیادہ پیداوار چین میں ہوتی ہے۔

اس کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا، ایران اور ترکی کا نمبر آتا ہے۔ افغانستان اور ایران میں بھی اس کی بہت پیداوار ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں اخروٹ کی پیداوار ہوتی ہے۔ بالخصوص خیبرپختون خوا اور اس میں شامل سوات میں اخروٹ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ پیداوار کے علاقوں میں دیر، بونیر، چترال، شانگلہ اور مالاکنڈ ایجنسی شامل ہیں۔ یہ مانسہرہ اور گلگت بلتستان میں بھی ہوتا ہے۔ آزاد جموں کشمیر میں بھی اخروٹ پیدا ہوتا ہے۔ اخروٹ کا درخت ہوتا ہے۔ یہ پہاڑی اور ٹھنڈے اونچے مقامات میں اچھی پیداوار دیتا ہے۔ اس کا درخت سو سے 120 فٹ کے قریب اونچا ہوتاہے۔ یہ 30 برس بعد پھل دیتا ہے۔ اخروٹ کا کچا پھل دودھ جیسے مادے سے بھرا ہوتا ہے، تین ماہ میں یہ مادہ خشک ہو کر اخروٹ کے مغز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

طبی فوائد: ۔عام میوہ جات کی نسبت اخروٹ میں اینٹی آکسیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ اس کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات وٹامن ای، میلاٹونین اور پولی فینولز کی مرہون منت ہیں۔ اس میں اومیگا تھری بھی بہت زیادہ مقدارمیں ہوتا ہے۔ اخروٹ کا استعمال سوزش میں کمی لاتا ہے اور بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے

ہماری آنتوں میں ایک قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو نظام انہضام میں مددگار و معاون ہوتے ہیں۔ اخروٹ کا استعمال ان بیکٹیریا جنہیں گٹ بیکٹیریا بھی کہا جاتا ہے، کے لیے مفید ہے۔ اخروٹ کا استعمال بعض اقسام کے سرطانوں سے بچاتا ہے۔ ان میں چھاتی کا سرطان، پروسٹیٹ سرطان اور آنتوں کا سرطان شامل ہیں۔
یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے فشارِ خون میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔ اخروٹ کا مغز، چھلکے، پتے، جڑ وغیرہ کو اطبا مختلف امراض میں علاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دماغ اور اعصاب کی کمزوری میں اخروٹ کا استعمال قوت دیتا ہے۔ اس سے جسمانی کمزوریاں بھی دور ہوتی ہیں۔ اخروٹ کے مغز کو پیس کر اس کا لیپ زخموں پر بھی لگایا جاتا ہے۔
فالج، لقوہ، جوڑوں کے درد میں اخروٹ کی گری کو کالا زیرہ میں پیس کر شہد ملا کر جسم کے متاثرہ حصوں پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو بدہضمی، قبض اور مروڑ میں اخروٹ کے مغز کا لیپ بنا کر ناف پر ملنے سے آرام ملتا ہے
نزلہ، زکام، نمونیہ اور تمام سرد امراض میں اخروٹ کا مغز شہد کے ساتھ کھانا مفید ہے۔ اخروٹ جگر کی بیماری میں بھی مفید ہے۔ اخروٹ، ملٹھی، گوند لے کر اور شہد ہم وزن لے کر کھانے سے کھانسی اور گلے کے امراض میں افاقہ ہوتا ہے۔ روزانہ آدھا کپ اخروٹ کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے

معدے کی صحت مجموعی جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے، اخروٹ کھانے کی عادت معدے میں مثبت تبدیلیاں لاتی ہے۔ بچوں کو مچھلی، سویا بین اور اخروٹ لڑکپن میں کھلانا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکپن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی کمی بچوں کو ذہنی بے چینی کا شکار بناتی ہے
جس سے ان کی یادداشت متاثر ہوتی ہے۔ اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ خون کی شریانوں کے نظام کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔
روزانہ صرف 2 اخروٹ کھانا فشارخون کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے، جس سے دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

جو کہ دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ تیل: ۔اخروٹ کا تیل جوڑوں پر مالش کرنے سے جوڑوں کے پٹھوں کو آرام ملتا ہے، اس سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور فالج کے مریضوں کو بھی اخروٹ کے تیل کی مالش سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ سرد موسم میں جوڑوں کے دکھنے پر اخروٹ کے تیل کا مساج کریں یہ اعصاب کے لیے بھی مفید ہے۔ اخروٹ اور زیتون کے تیل کو لگانے سے سر کی جوئیں ختم ہوتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.