امریکی شہریوں کو ”تخریب کار“قرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر احتجاج کرنے والے امریکی شہریوں کو ”تخریب کار“قرار

66

واشنگٹن(اوصاف ٹی وی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر احتجاج کرنے والے امریکی شہریوں کو ”تخریب کار“قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تخریب کاروں کے خلاف بھرپور جنگ لڑیں گے‘انہوں نے کہاکہ وہ امریکا کو دنیا کا سب سے بڑا اور محفوظ ملک بنائیں گے.

وائٹ ہاﺅس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جارج فلائیڈ کی موت کا معاملہ رائیگاں نہیں جائے گا مگر فلائیڈ قتل کی آڑ میں ملک میں تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘ٹرمپ کی تقریب کے دوران بھی رات کو وائٹ ہاﺅس کے آس پاس کے علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین پرتشدد جھڑپیں جاری رہیںپولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا.

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے اپنی قوم کے قوانین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے اور اس کی پاسداری کروں گا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والے پرتشدد احتجاج نے امریکیوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے‘ دارالحکومت کی حفاظت کے لیے واشنگٹن میں ہزاروں مسلح فوجیوں اور پولیس کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے. امریکی صدر نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ پرامن مظاہرے نہیں بلکہ دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے کی کوشش ہے نفرت کے خلاف جنگ انصاف کے ذریعے کی جائے گی ٹرمپ نے پرتشدد احتجاج اندرون ملک دہشت گردی قرار دیا.

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ریاستی گورنر اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہے تو وہ فوجی دستوں کی تعیناتی کے ذریعے پرتشدد مظاہرے روکیں گے‘دوسری جانب دنیا کے متعدد بڑے شہروں میں امریکہ میں جاری مظاہروں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا جا رہا ہے اور غیر معمولی طور پر امریکہ کی بعض بڑی کمپنیوں نے سیاہ فام امریکی کے قتل کے خلاف اور اس کے بعد جاری احتجاجی مظاہروں کے حق میں بیانات دیے ہیں.

نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں ہزاروں افراد نے ان احتجاجی مظاہروں کے حق میں مارچ کیا جو امریکہ بھر میں پولیس کی تحویل میں ایک سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف کیے جا رہے ہیںآک لینڈ میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کرنے والوں نے وہی نعرے لگائے جو امریکہ میں احتجاجی مظاہروں میں لگائے جا رہے ہیں یعنی”سیاہ فام کی زندگی اہمیت رکھتی ہے اور انصاف کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا“ قبل ازیں برطانیہ، برازیل، کینیڈا اور دیگر کئی ملکوں میں بھی اسی طرح کا اظہار یک جہتی کیا گیا تھا.

مرکزی لندن میں ہزاروں مظاہرین نے جمع ہو کر پولیس کے ظلم کے خلاف احتجاج کیا ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا‘جرمنی میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے جن ممالک میں آمرانہ حکومت قائم ہے وہاں کے حکام نے بھی امریکی پولیس کے اس اقدام کی مذمت کی. عام طور بڑی کمپنیاں ایسے موقعوں پر خاموشی اختیار کرتی ہیں، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا ٹیکنالوجی، بینکنگ، اور شو بز سے متعلق کمپنیوں نے ان مظاہروں کے حق میں بیان جاری کیے ہیں یونیورسٹی آف برکلے کے سکول آف بزنس کی پروفیسر کیلے میک ایل ہانے کا کہنا ہے کہ مجھے بڑی حیرت ہے کہ پہلی بار اتنی بہت سی کمپنیوں نے ایسے مسئلے کے بارے میں زبان کھولی.

انہوں نے کہا کہ شاید اس کی وجہ وہ ویڈیو ہو جس میں پولیس افسر کے بے رحمانہ فعل کو طشت از بام کیا گیا آخرکار ان کمپنیوں کو چلانے والے بھی انسان ہیں ان کے اداروں میں سیاہ فام، غیر سفید فام امریکی کام کرتے ہیں اور ان کے گاہکوں میں بھی یہی لوگ شامل ہیں. جن بڑی بڑی کمپنیوں نے پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی کے قتل اور اس کے بعد اس کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے ان میں نیٹ فلکس، گوگل، مائیکرو سافٹ، سٹی بینک اور ٹارگٹ جیسے سپر سٹور شامل ہیں‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس فسطائیت مخالف گروپ ”اینٹی فا“کو دہشت گرد قرار د یا ہے وہ فسطائیت کے خلاف ایک احتجاجی تحریک ہے جو نازی خیالات، سفید فام نسل پرستی کی بالا دستی کے پیرو کار اور نسل پرستانہ رویے کے خلاف مظاہرے کرتی ہے اس تحریک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی مرکزی رہنما نہیں ہے اور وہ آزدانہ طور پر کام کرتی ہے.

اس کے مقابلے میں ”وائٹ سپرمیسٹ“کہلانے والے سفید فام انہتا پسند اپنے مظاہروں میں نہ صرف نازی جھنڈے لے کر شرکت کرتے ہیں بلکہ ان کی گاڑیوں اور گھروں پر بھی نازی جھنڈے اور نشان نظر آتے ہیں یہ گروہ سفید فام نسل کی بالادستی چاہتا ہے اور اس کے لیے غیرسفید فام انسان کے قتل کو بھی جائزسمجھتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس وقت آسٹریلیا‘فرانس‘برطانیہ‘جرمنی‘امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک میں اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد حکمران یا اعلی حکومتی عہدوں پر تعینات ہیں .

یہ گروہ1901میں شروع ہونے والی تحریک”سفید فام آسٹریلیا تحریک“اسی طرح یہ 16ویں صدی میں شروع ہونے والی سیاہ فام غلاموں کی تجارت کو بھی نہ صرف جائزسمجھتا ہے بلکہ اس جدید دنیا میں بھی اس کا زبردست حامی ہے یہ تحریک آسٹریلیا سے لے کر یورپ اور امریکا تک پھیلی ہوئی ہے کنیڈا میں بھی اس کے اراکین موجود ہیں مگر ان کی تعداد محدود ہے . سفید فام بالا دستی کی اس تحریک کے لوگ معصوم انسانوں کے قتل کرنے سے لے کر ان کی املاک جلانے تک ملوث رہے ہیں مگر ان کے خلاف کبھی کوئی سخت کاروائی نہیں کی جاتی ان میں ایک گروہ خود کو ”ٹیمپلر“یعنی صلیبی بھی کہتا ہے یہ نہ صرف نسلی انتہاپسندی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ یہ غیرعیسائیوں کو قتل کروانے میں بھی ملوث ہیں انہی ”ٹیمپلرز“نے افریقہ سے اغواءکرکے لے جائے جانے والے سیاہ فا م مسلمان غلاموں کو عیسائی بننے پر مجبور کیا .

یہ بات خود امریکی محققین کی تحقیق سے ثابت ہوتی ہے کہ امریکا اور آسٹریلیا سمیت دیگر خطے جن پر سفید فا م یورپی اقوام نے قبضہ کیا وہاں افریقہ سے اغواءکرکے لے جائے جانے سیاہ فام غلاموں کی اولادوں کا ڈی این اے افریقی مسلمانوں سے جا کر ملتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کے اباءواجداد مسلمان تھے جنھیں زبردستی اغواءکرکے افریقہ سے امریکا ‘یورپ اور آسٹریلیا لے جایا گیا.

لیکن آج تک قتل ‘دہشت گردی‘غیرسفید فام اقلیتوں پر حملوں جیسے جرائم کے باوجود آج تک امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک کسی حکومت نے ”وائٹ سپرمیسٹس“کو دہشت گرد قرارنہیں دیا. ”اینٹی فا“ تحریک سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کے نسل پرستانہ رویے اور جنس پر مبنی تعصب کی مخالفت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ تحریک تارکین وطن اور مسلمان مخالف پالیسیوں کے خلاف بھی احتجاج کرتی رہی ہے جو صدر ٹرمپ کے دور میں نافذ کی گئی ہیں‘صدر ٹرمپ نے تنظیم کو امریکہ میں جاری ہنگامے شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جو ملک کے مختلف شہروں میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت کے بعد شروع ہو گئے تھے اور ان کے نتیجے میں کئی شہروں میں کرفیو نافذ ہو گیا ہے.

اینٹی فا فسطائیت تحریک کا نام امریکہ میں بڑے پیمانے پر دوبارہ تین سال قبل آیا جب انہوں نے ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹسول میں سفید فام نسل کی بالادستی کے لیے نکالی جانے ریلی کی مخالفت کی تھی ‘اینٹی فا “ نازی خیالات، سفید فام نسل پرستی کی بالا دستی کے پیرو کار اور نسل پرستانہ رویے کے خلاف بھی مظاہرے کرتی ہے صدر ٹرمپ پر اس وقت بھی شدید تنقید ہوئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ کئی جانب سے تشدد کا مظاہرہ ہوا ہے اور سفید فام نسل پرستوں کی کھل کر مذمت نہیں کی تھی.

امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی انفرادی شخص یا کسی گروہ کو غیر ملکی دہشت گرد قرار دے سکیں ایسا کرنے کے لیے وہ قانون بھی بنا سکتے ہیں اور صدارتی حکم بھی جاری کر سکتے ہیں. تاہم قانونی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا صدر ٹرمپ کے پاس کسی ملکی تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے اختیارات ہیں یا نہیںامریکہ کے محکمہ قانون کی سابق اعلی عہدے دار میرے میککورڈ نے کہا کہ موجودہ وقت ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے جس کے تحت ایک ملکی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے.

انہوں نے کہاایسا کرنے کی کوئی بھی کوشش امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے حوالے سے خدشات پیدا کرے گی امریکی آئین کی پہلی ترمیم یا فرسٹ امینڈمنٹ کے تحت ملک بھر میں ہر فرد کو اظہار خیال، مذہب اور جمع ہونے کے حوالے سے آزادی ہے گذشتہ برس ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹرز نے ایوان بالا میں ایک قرار داد پیش کی تھی جس میں ”اینٹی فا“ کو مقامی دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ تھا.

امریکہ کے اٹارنی جنرل ولیم بار نے صدر کے بیان کا اعادہ کرتے ہوئے اینٹی فا کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ دوسرے شر پسند عناصرنے ان مظاہروں پر غلبہ پا لیا ہے یہ ہنگامے شروع کرنے والے اینٹی فا اور ان کے جیسے گروہ ہیں اور یہ مقامی دہشت گردی ہے اور ہم اس کے خلاف قدم اٹھائیں گے. اس سے قبل سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپیو نے قدرے احتیاط سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ہنگامہ کرنے والے ”اینٹی فا“ کی طرح تھے انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ پر امن احتجاج ہنگامہ آرائی میں کیسے تبدیل ہوا ریاست منی سوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ الیسن نے کہا کہ ان کے پاس شواہد ہیں کہ منی سوٹا کی ریاست کے باہر کے لوگ ان ہنگاموں میں ملوث تھے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان کا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے تھا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.