سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ کو کم کرنے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط

امریکی صدر نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ کو کم کرنے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔

169

واشنگٹن (اوصاف ٹی وی) امریکی صدر نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ کو کم کرنے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔ ایگزیکٹیو آرڈر کی منظوری کے بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کو مانیٹر کرنے والے ادارے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کے اہل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کمپنیوں کو میسر قانونی تحفظ کو کم کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے یہ کہتے ہوئے اس آرڈر پر دستخط کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’لامحدود اختیارت‘ حاصل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر امریکہ میں قدامت پسند طبقے کی آواز دبانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں نئے ضابطوں کا پابند کرنے یا مکمل بندش کی دھمکی دی ہے۔

اپنے ایک ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز محسوس کرتے ہیں کہ سماجی رابطے کے پلیٹ فورم قدامت پسندوں کی آواز دباتے ہیں۔ انہیں ایسا کرنے دینے سے پہلے ہم ان پر سخت ضابطے لاگو کریں گے یا انہیں بند کردیں گے۔ سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فورمز نے 2016 میں ایسی ہی ناکام کوشش کی تھی اور اس بار وہ زیادہ صفائی سے یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے 26 مئی کو ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں کیلیفورنیا کے گورنر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کا انتظامی حکم نامہ جاری کرکے انتخابات میں دھاندلی کرنے کی تیاری کررہے ہیں اور لاکھوں بیلٹ پیپر بغیر کسی تصدیق کے ارسال کرکے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کا آغاز ہوچکا ہے۔

تاہم ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے اس ٹوئٹ پر ’’گیٹ دی فیکٹ‘‘ کی تنبیہ چسپاں کردی جس پر کلک کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان خلاف واقعہ ہے اور بیلٹ پیپر کی سہولت صرف تصدیق شدہ ووٹرز ہی کو فراہم کی جائے گی۔عالمی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر کے اس اقدام کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فورمز کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں ںے اپنے ٹوئیٹ میں بھی اس پس منظر کا حوالہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاک کے ذریعے دیے گئے ووٹ چوری ہوسکتے ہیں، ان میں جعل سازی اور دھوکا دہی ممکن ہے۔ جو جتنا زیادہ دھاندلی کرے گا وہ جیت جائے گا۔ جس طرح سوشل میڈیا کرتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو فوری طور پر اپنا قبلہ درست کرنے کی تنبیہ بھی کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu