شادی میں مرضی کا حق

43

اسلام شادی کے معاملے میں مرضی، پسند، محبت اور مفاہمت کوآخری حدتک اہمیت دیتا ہے اور صحیح معنوں میں میاں بیوی کورفیقِ زندگی اور شریک زندگی کا درجہ دیتا ہے۔

قرآن مجید میں عورتوں کو مردوں کی کھیتی کہا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اس پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں مگر اس کی حقیقت پر غور نہیں کرتے۔وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسلام عورت کو صرف بچہ پیدا کرنے کی مشین سمجھتا ہے جبکہ عورت کو مرد کی کھیتی کہنے کی حقیقت یہ ہے کہ کسان کو کھیتی سے والہانہ عشق ہو تا ہے، وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کو ہر آفت سے بچاتا ہے۔ ہر وقت اس کا دل کھیتی اور اس سے متعلق کا روبار میں پڑا رہتا ہے نیزوہ صرف اپنی ہی کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو تا ہے دوسرے کی کھیتی سے اسے کوئی واسطہ اور مطلب نہیں ہوتا۔اسلام چاہتا ہے کہ جو تعلق کھیتی اور کسان کے درمیان ہوتا ہے وہی تعلق میاں اور بیوی کے درمیان بھی ہو نا چاہیے ،ویساہی عشق اور لگائو ہونا چاہیے ۔ اپنی بیوی اور شریک حیات کے علاوہ کسی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ اسلام بار بار اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوں اور دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھیںاوروفاداری کاحق اداکریں۔ذرا غور کریں کہ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان اس قدر محبت ہو تو اس گھر کے جنت ہونے میں کس کو انکار ہو سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.