- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

اپنی جلد کی نگہداشت قدرتی اشیاء سے کیجئے

182

- Advertisement -

اچھی یعنی صحت مند اور خوبصورت جلد جسمانی صحت کی عکاس ہوتی ہے۔بعض خواتین اپنی جلد کا خیال نہیں رکھتیں اور بعد میں پریشان ہوتی ہیں۔غیر صحت مند جلد کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب غیر متوازن خوراک ہے۔کم غذائیت والے کھانے،جلد سے اس کی خوبیاں چھین لیتے ہیں۔جلد کی صحت مند کیفیت بر قرار رکھنے کے لئے متوازن غذا نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایسی خواتین جنہیں جلد کے مسائل در پیش ہوں انہیں ہر صورت میں ایسی خوراک لیتے رہنا چاہیے جس میں وہ تمام غذائی اجزاء شامل ہوں جو صحت کے لئے ضروری ہیں۔یہ غذائی اجزاء پروٹین،کاربو ہائیڈریٹس،چکنائیاں ،وٹامنز اور معدنی اجزاء ہیں۔آپ کی خوراک میں وافر مقدار میں بیج،مغزیات،اناج،پھل اور خصوصی حفاظتی غذائیں مثلاً دودھ،ویجی ٹیبل آئل(نباتاتی)دہی،شہد اور خمیر شامل ہونے چاہئیں۔بہت سی اشیاء جلد کی صحت اور خوبصورتی میں اضافہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ان میں سے ایک لیموں کا جوس ہے۔آپ اگر ایک گلاس اُبلے ہوئے دودھ (بالائی سمیت)میں ایک لیموں نچوڑ کر اور ایک چائے کا چمچہ گلیسرین شامل کرکے آدھے گھنٹہ تک پڑا رہنے دیں اور پھر اس ملغوبے کو چہرے ،ہاتھ ،گردن اور پیروں پر رات کے وقت لگائیں اور اس کا استعمال روزانہ رات کو باقاعدگی سے جاری رکھیں تو آپ کی جلد تروتازہ اور شاداب نظر آئے گی۔
آڑو کا چھلکا ،جلد کی رنگت نکھارنے میں معاونت کرتاہے۔اس کے استعمال کا طریقہ کار یہ ہے کہ آڑو کا چھلکا اتارلیں اور اس کا اندرونی حصہ روزانہ رات کو چہرے پر نرمی کے ساتھ چند منٹ تک رگڑیں۔رگڑنے کے بعد رطوبت کو صاف نہ کریں یعنی رات بھر لگی رہنے دیں۔ یہ رطوبت جلد کو عمدہ طریقے سے صاف کردے گی اور مسام کھل جائیں گے ۔آڑو کے چھلکے میں موجود اجزاء انسانی جلد کو کسنے میں مدد دیتے ہیں۔اس کا استعمال چہرے کی جلد کا ڈھیلا پن دور کرتاہے۔
سنگترے اور مالٹے کا جوس بھی چمکدار رنگت کے لئے نہایت مفید ہے۔سنگترے کے خالص جوس(اس میں پانی یا کچھ اور شامل نہ کیا گیا ہو)میں انگلیاں بھگو کر انہیں اچھی طرح چہرے،ٹھوڑی،گردن اور پیشانی پر ملیں۔چند روز میں چہرے کا نکھار نمایاں ہو جائے گا۔کچے سنگتروں کے بیج دھوپ میں خشک کرکے انہیں پیس کر سفوف بنالیں۔
جلد کی جھائیاں صاف کرنے کے لئے تربوز کا جوس کار آمد ہے۔اس مقصد کے لئے تربوز کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کافی رہتاہے۔اس کا جوس نکالیں۔اسے پندرہ منٹ تک چہرے اور گردن پر لگائیں اور پھر نیم گرم پانی سے دھو کر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں ۔ٹماٹر کا بیرونی استعمال بھی ایک مفید قدرتی حسن افزاء ہے۔اس کا گودا اچھی طرح چہرے پر ملیں اور ایک گھنٹے تک اسی طرح چہرے پر لگا رہنے دیں۔پھر نیم گرم پانی سے دھوئیں ۔اس کا روزانہ استعمال چہرے کی رنگت نکھار دیتاہے اور بد نما کیل اور پھنسیوں کو بھی کم عرصہ میں دور کر دیتاہے۔کدوکش کیا ہوا کھیرا چہرے کی جلد کے لئے ایک بہترین ٹانک کا کام کرتاہے۔اس کا باقاعدہ استعمال کیل،پھنسیوں،بلیک ہیڈز،جھریوں اور خشکی سے محفوظ رکھتاہے۔
چولائی کے ساگ کے رس میں چٹکی بھر ہلدی شامل کرکے اس کا چہرے پر استعمال،جلد کا رنگ صاف کرنے کے علاوہ اسے خشکی اور جھریوں سے تحفظ دیتاہے اور کیل پھنسیوں کا علاج کرکے چہرے کو شاداب بنا دیتاہے۔
اگر اس کے جوس میں لیموں کا رس اور دودھ بھی شامل کر لیا جائے اور پھر نرمی کے ساتھ چہرے اور گردن پر اس کا مساج کیا جائے تو روزانہ آدھے گھنٹے کا یہ معمول چہرے کی تروتازگی کے لئے مفید ہے۔یہ معمول روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنائیں اور آدھے گھنٹے کے بعد نیم گرم پانی سے چہرہ دھولیں۔تازہ سبز پودینے کا جوس روزانہ رات کو چہرے پر لگانے سے کیل پھنسیاں غائب ہو جاتی ہیں اور جلد کی خشکی سے تحفظ ملتاہے۔
یہی جوس ایگزیما اور جلد کی سوزش کے مقام پر لگائیں تو مفید نتائج حاصل ہوتے ہیں۔
مولی کے بیجوں کا پانی کے ساتھ ایملشن بنا کر چہرے پر لگایا جائے تو چند ہفتوں میں بلیک ہیڈز اور جلد کے دھبے تحلیل ہو سکتے ہیں۔داد اور فنکس میں بھی اسے لگانا مفید بتایا جاتاہے۔باداموں کا پیسٹ اور گلاب کی تازہ کلیوں کا پیسٹ روزانہ چہرے پر لگانا موثر قسم کی بیوٹی ایڈ ہے۔
یہ جلد کو ملائم اور صاف کرتی ہے۔گلاب اور بادام کا باقاعدہ استعمال قبل ازوقت جھریوں ،بلیک ہیڈز،جلد کی خشکی،کیل پھنسیوں اور ایکنی سے محفوظ رکھتاہے اور چہرہ تروتازہ رہتاہے۔جلد کی خوبصورتی کے لئے ایک اور موثرو معاون ذریعہ چہرے پر روزانہ صبح دہی ملنا اور چند منٹ کے بعد اسے ٹھنڈے پانی سے دھوڈالنا ہے۔اس سے رنگ صاف اور جلد صحت مند اور تروتازہ رہتی ہے۔
ہاتھوں کو نرم وملائم بنانے کے لئے دہی اور لیموں کا مکسچر موثر ہے۔مسور کی دال اور دہی کا پیسٹ اگر چہرے پر ماسک کی طرح لگایا جائے تو یہ جلد کو صاف کرتاہے اور اسے چمکدار بناتاہے۔سوکھنے پر اسے انگلیوں سے اتاریں اور پھر پانی سے چہرہ دھولیں۔
اس پیسٹ میں اگر نیم کے پتوں کا جوس چند قطرے ملا لیا جائے تو کیل،مہاسوں اور پھنسیوں کا تدارک ہو جاتاہے۔
کالے چنوں کا آٹا یعنی بیسن بھی نہایت موثر کلینزنگ ایجنٹ ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال یعنی چہرے پر لیپ جلد کو بلیچ کر دیتاہے۔جلد کی الرجی بیماریوں میں مثلاً ایگزیما،سوزش اور خارش میں بیسن سے جلد کو دھونا مفید رہتاہے۔پھنسیوں اور کیلوں کے علاج کے طور پر بھی بیسن کار آمد ہے۔بیسن کا پیسٹ بنانے کے لئے اسے دہی میں ملائیں اور چہرے پر لگانے کے تھوڑی دیر بعد دھو ڈالیں۔مونگ کی دال کا آٹا بھی عمدہ کلینر ہے۔اسے صابن کی جگہ استعمال کیا جا سکتاہے۔یہ دھول اور مٹی کو جلد کی تہہ سے نکال دیتاہے اور جلد کو متاثر بھی نہیں کرتا۔چہرے پر اس کا لیپ کرنے سے رنگت نکھر جاتی ہے۔شہد، زیتون کا تیل،ہلدی اور صندل(چندن)کا مکسچر خشک اور مرجھائی ہوئی جلد کو پھر سے تروتازہ بنا دیتاہے۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu