کورونا وائرس کا خطرہ،سندھ حکومت نےنمازجمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگادی

128

کراچی: (اوصاف ٹی وی) سندھ حکومت نے کرونا وائرس بڑھنے کے خطرات کے پیش نظر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق 27 مارچ سے 5 اپریل تک مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مساجد میں صرف 3 سے 5 افراد نماز ادا کر سکیں گے۔ مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات بھی نہیں ہونگے۔

سندھ حکومت نے پابندی کا فیصلہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مشاورت سے کیا۔ نماز کے اجتماعات پر پابندی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں مساجد میں باجماعت نماز اور جمعہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے31 مئی تک بند رہیں گے جبکہ ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کل دوبارہ بیٹھک ہوگی۔

وزیراعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد حکومتی نمائندوں کے ہمراہ پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ مسلم اُمہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات اٹھائے۔ شیخ الازہر اور حرمین شریفین کی طرف سے بھی فتوٰی آیا ہے۔ ترکی، مصر اور مراکش سمیت بہت سارے ممالک نے مساجد کو بڑے اجتماعات کیلئے بند کر دیا ہے۔ تین دن سے مکہ مکرمہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کربلا میں بھی مزار بند ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے بتایا کہ آج علمائے کرام سے ساڑھے تین گھنٹے تک طویل نشست ہوئی۔ علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے کہ حکومت جو بھی پالیسی بنائے گی، اس پر عمل کرینگے گی۔

پیرنور الحق قادری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ مساجد سے اذان کی صدائیں آئیں گی تاہم مساجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کو محدود رکھا جائے گا۔ مسجد کا عملہ اور محدود تعداد میں تندرست لوگ نماز ادا کریں گے جبکہ باقی گھروں میں پڑھیں گے۔

دنیا نیوز کے پروگرام’’نقطہ نظر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں جامعتہ الازہر کے فتوٰی پر اتفاق نہیں ہوا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے بھی کہا کہ یہی فیصلہ درست ہے۔

مفتی منیب الرحمان نے دعویٰ کیا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے بھی فیصلے سے اتفاق کیا ہے کہ مساجد کھلی رہیں گی، پانچ وقت کی نماز اور نماز جمعہ جاری رہے گا۔

پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں وبائی امراض کے ماہر بھی شامل تھے۔ اجلاس میں ایک ایک لفظ پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں شریک ہونے والوں میں ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر فیصل محمود، ڈاکٹر حنیف کمال اور ڈاکٹر ذیشان بھی موجود تھے۔ تیرہ نکات پر مشتمل ہمارا ڈیکلریشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں صدر مملکت نے ہمارے اعلامیے سے اتفاق کیا۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ ماسک پہن کر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ پوری قوم توبہ استغفار کرے۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے معاملے اور اس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے عوام سے گھروں میں رہنے اور گھر میں نمازیں ادا کرنے کی تلقین کر دی ہے۔

علمائے کرام نے یہ اعلان گورنر پنجاب چودھری سرور سے ملاقات کے بعد کیا۔ گورنر پنجاب سے تمام مکتبہ فکر کے 20 سے زائد علمائے کرام نے ملاقات کی تھی۔

اجلاس کے بعد گورنر پنجاب اور علمائے کرام نے یک زبان ہو کر عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین۔ اس موقع پر گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام گھروں میں رہیں، خود بھی نماز پڑھیں اور بچوں کو بھی نماز پڑھائیں۔

مولانا طاہر اشرفی، پروفیسر ساجد میر، مفتی عاشق حسین، ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا حافظ عبدلرحیم اور دیگر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ نے عوام سے التماس کی کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عوام کو گھروں میں رہنا چاہیے۔

علمائے کرام نے کہا کہ جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ عوام گھروں میں رہنے کی تلقین پر عمل کریں اور گھروں میں رہ کر نماز پڑھیں۔ کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کے لیے گھروں میں رہنا اچھا فیصلہ ہے۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں علمائے کا کردار خوش آئند ہے۔ ہم نے ہر پاکستانی کو اپنی فیملی کا حصہ سمجھ کر کورونا سے بچانا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu