پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں7 روپے6 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان

پٹرول کی نئی قیمت74 روپے52 پیسے فی لیٹر ہوگئی، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات12بجے سے ہوگا

27

اسلام آباد (اوصاف ٹی وی) وفاقی حکومت نے یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں 7 روپے 60 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا، پیٹرول کی نئی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات12بجے سے ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے اوگرا کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کے تحت یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کمی کا اعلان کردیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پیٹرول کی قیمت میں7 روپے6 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت74 روپے 52 پیسے ہوگئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں5 یسے فی لیٹراضافہ کردیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 5 پیسے اضافے کے بعد 80 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں9 روپے37 پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی۔

جس کے بعد لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 38 روپے14 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

مٹی کے تیل کی قیمت میں فی لیٹر 11 روپے 88 پیسے کمی کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت35 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات12 بجے سے ہوگا۔ واضح رہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا نے خصوصی سمری تیار کر کے منظوری کیلئے پٹرولیم ڈویژن بھیجی تھی۔ جس میں سفارش کی گئی تھی کہ یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11روپے 88 پیسے فی لیٹر تک کمی کرنے کی سمری تیار کی گئی ہے ۔

اوگرا کی جانب سے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی گئی سمری کے مطابق پٹرول 7 روپے 6 پیسے لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل 9 روپے 37 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 11 روپے 88 پیسے سستا کرنے کی سفارش کی ہے۔ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 پیسے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت خزانہ اوگرا کی سمری کا جائزہ لینے اور وزیراعظم سے منظوری لینے کے بعد یکم جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے حتمی اعلان کرے گی۔

جبکہ بتایا گیا ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہونے کی اطلاعات ملنے کے بعد متعلقہ حکام متحرک ہوگئے ہیں۔ پٹرولیم کمپنیوں سے ذخائر کی موجودہ صورتحال اور گزشتہ 3 ماہ کی خرید و فروخت کے اعداد و شمار طلب کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ تاہم اس کیلئے خود حکومت کو متحرک ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu