پشاور ہائی کورٹ نے مفتی کفایت اللہ کو رہا کرنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد سرکٹ بینچ نے جمیعت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم

124

پشاور:(اوصاف ٹی وی) پشاور ہائی کورٹ نے مفتی کفایت اللہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد سرکٹ بینچ نے جمیعت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔مفتی کفایت اللہ کی خلاف کیسز پر ان کے وکیل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے اختتام کے بعد جسٹس عقیل احمد اور جسٹس احمد علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔
مفتی کفایت اللہ کے وکیل بلال خان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے ان کے موکل کے خلاف پولیس کی جانب سے قانون کی متعدد دفعات کے تحت درج تینوں کیسز میں ضمانت دے دی ہے۔عدالت نے مفتی کفایت اللہ کومقامی مجسٹریٹ کے پاس کورونا وائرس وبائی امراض سے متعلق حکومتی رٹ کو چیلنج نہ کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے مفتی کفایت اللہ کو کورونا وائرس کے سلسلے میں وقتا فوقتا حکومت کے جاری کردہ احکامات کی پابندی کا بھی حکم دیا ہے۔ایڈووکیٹ بلال خان نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے موکل نے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعزیت کے لیے آواز اٹھائی ہے۔خیال رہے کہ شنکیاری اور بفہ پولیس نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور جمعیت علمائے اسلام ضلع مانسہرہ کے امیر مفتی کفایت اللہ کو مولانا شاہ عبدالعزیز کے نماز جنازہ کے بعد گھر جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
مفتی کفایت اللہ کو دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیاگیا۔12اپریل کومفتی کفایت اللہ کیخلاف تھانہ بفہ میں تین ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔عوام میں اشتعال انگیز تقریر کرکے فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے کابھی الزام ہے۔مفتی کفایت اللہ کو پولیس کے سخت پہرے میں جسمانی ریمانڈ کے لیئے عدالت میں پیش کیا گیا۔جہاں سے 14روزہ جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔کفایت اللہ کی گرفتاری کے خلاف گزشتہ روز خواجگان کے مقام پر عوام نے شدید احتجاج کیا۔اور انکی گرفتاری کو انتقامی کاروائی قرار دیتے ھوئے انکی فوری رہائی3کامطالبہ کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu