مائیکل جیکسن 150 سال تک زندہ کیوں رہناچاہتاتھا

160

حضرات انساں ازل سے ہی حیات جاویداں کاخواہشمندرہاہےلیکن کوئی بھی انسان اس خواہش کوپوراکرنے کااختیارنہیں رکھتاچاہے اس کے پاس کتنی ہی دولت کیوں نہ ہو۔یہی وجہ ہے کے بڑے بڑے بادشاہ ،جنگجوبھی ہمیشہ زندہ رہنے کی اس خواہش کوانجام نہ دے پائے۔مختلف رپورٹس کے مطابق مائیکل جیکسن کے بارے میں بھی یہ کہاجاتاہے کہ وہ بھی ایسی خواہشات کامالک تھاوہ نہ صرف لمبی زندگی کاخواہشمندتھابلکہ اپنی سیاہ رنگت کوبھی مات دیناچاہتاتھااوراپنی اس خواہش کی تکمیل کے مائیکل جیکسن نے یورپ اورامریکہ کے 55 سے زائدپلاسٹک
سرجنز کی خدمات حاصل کیں۔یہاں تک کہ 1987تک مائیکل جیکسن کی حرکات وسکنات شکل وصورت بدل گئی۔سیاہ فام مائیکل جیکسن کی طرح گوراچٹااورنسوانی نقوش والامائیکل جیکسن دنیاکے سامنے آگیا۔1987میں مائیکل جیکسن نے BADکے نام سے ایک البم جاری کی یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی۔ہمیشہ کی طرح یہ البم بھی کامیاب رہی اوراس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔

اس البم کے بعداس نے اپناپہلاسولوٹورشروع کیا۔ملکوں ملکوں شہرشہرگیااورکانسرٹ کیے۔اوراپنے شوز سے کروڑوں ڈالرکمائے یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کوشکست دیدی۔اس کے بعدمائیکل جیکسن نے اپنے ما ضی سے بھاگناشروع کردیااس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کرلیااس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کیے اورکرائے پرگورے ماں باپ بھی حاصل کرلیے۔اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑالی۔ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلاہوتاچلاگیاوہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔اس نے خودکومشہورکرنے کے لیے لیزامیری بریسلے کے شادی کرلی اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوادئیے۔

اورمصنوعی طریقہ تولید سے اپناپہلابیٹاپرنس مائیکل بھی پیداکرالیا۔ڈی بی روکی مدد سے اس کی بیٹی بھی پیداہوئی۔مائیکل جیکسن کی یہ خواہش بھی پوری ہوگئی اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی۔اوروہ خواہش یہ تھی کہ وہ 150سال تک زندہ رہ سکے۔مائیکل جیکسن طویل عمرپانے کے لیے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا۔مثلاً وہ رات کوآکیسجن ٹینک میں سوتا۔جراثیم وائرس اوربیماریوں کے اثرات سے بچنے کے لیےدستانے پہن کرلوگوں سے ہاتھ ملاتاوہ لوگوں میں جانے سےپہلے منہ پرماسک چڑھالیتااورمخصوص قسم کی خوراک کھاتااس نے مستقل طورپر12ڈاکٹرز ملاز م رکھے ہوئے تھے۔یہ ڈاکٹرز روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کامعائنہ کرتےاس کی خوراک کاروزانہ لیبارٹری ٹیسٹ ہوتا۔اس نے اپنے لیے فالتوپھیپھڑوں ،دل ،گردوں ،جگرکابندوبست بھی کررکھاتھایہ ڈونرز تھے جن کے تمام خرچے وہ اٹھارہاتھااوران ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کردینے تھے۔

چنانچہ اسے پورایقین تھاکہ وہ ڈیڑھ سوسال تک زندہ رہے گا۔لیکن پھرایک ایسی رات آئی کہ اسے سانس لینے میں دشواری پیداہوئی۔اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھرکے سینئرڈاکٹرز کواس کی رہائش گاہ پرجمع کرلیایہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کے لیے کوشش کررہے تھےلیکن ناکام ہوئے تواسے ہسپتال لے گئےوہ شخص جس نے ڈیڑھ سوسال تک زندہ رہنے کے منصوبہ بندی کررکھی تھی جوننگے پائوں زمیںپرنہیں چلتاتھاجوکسی سے ہاتھ ملانےسے پہلے دستانے چڑھالیتاتھاجس کے گھرمیں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیںاوراس نے پچیس برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیاتھاوہ شخص پچاس برس کی عمرمیں صرف تیس منٹ میں انتقال کرگیااوراس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کرگئی۔

مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبرگوگل پردس منٹ میں 8لاکھ لوگوں نے پڑھی یہ گوگل کی تاریخ کاریکارڈ تھااوراس ہیوی ٹریفک سے گوگل کاسسٹم بیٹھ گیا۔اورکمپنی کوپچیس منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرناپڑی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.