تاجروں کو اجازت نہ ملنے کے باوجود افطار کے بعد تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز کھولنے کا اعلان

تاجروں کا اجازت نہ ملنے کے باوجود افطار کے بعد تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز کھولنے کا اعلان کر دیا۔

99

کراچی (اوصآف ٹی وی) تاجروں کا اجازت نہ ملنے کے باوجود افطار کے بعد تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز کھولنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تاجر برادری نے موقف اختیار کیا ہے کہ مارکیٹیں اور شاپنگ مالز 24 گھنٹے کھول کر رکھنے سے سماجی فاصلے ممکن ہیں۔ عتیق میر نےکہا کہ عید میں 6 سے 7 دن باقی ہیں ، ان دنوں میں کاروباری مراکز کو دیر تک کھولنے کی اجازت دی جائے ، لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے حکومت یہ بات سمجھنے کی کوشش کرے۔

ان کا کہنا تھا ہم جیلیں بھرنے کیلئے تیار ہیں لیکن مارکیٹیں کھولیں گے۔ جس کے بعد سے سندھ حکومت اور تاجروں کے درمیاں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ رات 12 بجے تک کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ چاند رات تک افطار کے بعد رات12 بجے تک کاروبار کی اجازت دی جائے،اجازت نہ دی تو تاجر ازخود ایس او پی کے تحت افطار کے بعد دکانیں کھول دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ حقوق کے لیے جیل جانا پڑا تو سب سے پہلے میں جائوں گا،سیل شدہ مارکیٹوں کو فوری کاروبار کی مشروط اجازت دی جائے۔اس ضمن میں کراچی چیمبرمیں برسراقتدار گروپ کے سربراہ سراج قاسم تیلی نے کہاکہ کرونا کہیں جانے والا نہیں،یہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے،ہم اپنے کاروبار ہمیشہ کے لیے بند نہیں کرسکتے،کرونا کی موجودگی میں کاروبار کے طریقے وضع کرنے ہوں گے۔

واضح رہےاس سے قبل کراچی کے تاجروں کے وفد کی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے ملاقات وفد میں کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر ،جمیل پراچہ ، شیر جیل گوپلانی ، چوہدری ایوب سمیت دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے شامل تھے ، وفد نے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے ملاقات کی ،اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے کہاکہ کورونا کے لاک ڈاون کی وجہ سے پوری قوم مشکلات کی شکار ہے اس سے نکلنے کے لئے دعائوں اور کثرت استغفار کی ضرورت ہے وہی ذات ہمیں اس مشکل سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے،انہوں نے کہاکہ کرونا وباء ہے اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن کیا کورونا کاعلاج کئی سالوں تک نہیں ملے گا تو لاک ڈاون بھی اتنا ہی طویل رکھا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.