میک اپ کریں مگر احتیاط سے

152

اگر آپ دنیابھر میں موجود ان کروڑوں خواتین میں سے ایک ہے جو مسکارا،لپ گلوس یا دیگر میک اپ مصنوعات استعمال کرتی ہیں تو جان لیں کہ ایسی مصنوعات میں جان لیوا جراثیم موجودہوتے ہیں ،اور اس کی وجہ آپ کی ہی سستی ہو سکتی ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔آسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت نوے فیصد یاہر10میں سے9کاسمیٹکس مصنوعات خطرناک جراثیم بشمول ای کولی اور دیگر سے آلودہ ہوتی ہیں جبکہ بیوٹی بلینڈرز،مسکارا اور لپ گلوس میں سب سے زیادہ مقدار میں بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔

 

تحقیق کے مطابق بیشتر بیکٹیریا قدرتی طور پر جلد پر موجود ہو سکتے ہیں مگر میک اپ مصنوعات کی شکل میں وہ سنگین امراض جیسے جلدی انفیکشن سے لے کر آشوب چشم اور بلڈ پوائزننگ تک،کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

 

 

 یہ بھی پڑھیں:بالوں کے گرنے کا گھریلو علاج

 

اگر یہ جراثیم جسم میں آنکھوں،منہ یا کسی زخم یا چہرے پر خراش سے داخل ہوں تو مدافعتی نظام متاثر ہونے کا امکان بھی ہوتاہے۔طبی جریدے جرنل آف اپلائیڈ مائیکرو بائیولوجی میں شائع تحقیق میں سائنسدانوں نے470کا سمیٹکس مصنوعات جیسے لپ اسٹک ،لپ گلوس،آئی لائنر،مسکارا اور بیوٹی بلینڈر ز وغیرہ میں جراثیمی آلودگی کا جائزہ لیا۔

 

محققین نے دریافت کیا کہ ایک بار استعمال ہونے کے بعد ان مصنوعات میں جراثیمی آلودگی کی شرح79سے90فیصد تک بڑھ جاتی ہے جبکہ 25فیصد مصنوعات میں متعدد اقسام کیFungکو دریافت کیا گیا ہے ۔محققین کا کہنا تھا کہ اسفنج جیسے بیوٹی بلینڈرز کو لیکوئیڈفاؤنڈیشن مصنوعات کو لگانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے اور استعمال کے بعد ایک طرف رکھ دیا جاتاہے،جس کی وجہ سے وہ جراثیم کی افزائش نسل کے لیے مثالی ثابت ہوتاہے ۔

محققین کے مطابق مجموعی طور پر جراثیم کی مقدار بہت زیادہ ہونے کی وجہ صارفین کی جانب سے ان مصنوعات کی صفائی کا خیال نہ رکھنا ہے یا ایکسپائری تاریخ کے بعدبھی استعمال کرنا ہے۔

محققین نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر یہ مصنوعات جب خریدی جاتی ہیں توان میں یہ جراثیمی آلودگی نہیں ہوتی،مگر ان میں موجود جراثیم کش اجزاء کی افادیت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے اور جراثیم کی شرح بڑھنے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فنگس اور بیکٹیریا ضروری نہیں کہ ہمیشہ انفیکشن کا باعث بنے تاہم اگر میک اپ کے استعمال کے دوران کھلے زخم یا خراش کے نتیجے میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتاہے خاص طور پر اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت کرنے والا انفیکشن ،جس کا علاج مشکل ہوتاہے اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتاہے۔

 

ماہرین نے مشورہ دیا کہ میک اپ کے لیے استعمال ہونے والے برشز کو ہر7سے10دن میں دھونا چاہیے تاکہ بیکٹیریا کے اجتماع کو روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:لپ ا سٹک کا استعمال ایک آرٹ

 

اس مقصد کے لیے نیم گرم پانی میں شیمپو کو مکس کرکے ہر برش کو اس میں دھونا چاہیے اور کبھی بھی اپنے برش کو دوسروں کے ساتھ استعمال مت کریں۔محققین نے کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایکسپائری تاریخ کو زیادہ نمایاں اور واضح کریں تاکہ اس کے بعد ان کا استعمال نہ ہوسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu