- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن جاری

92

- Advertisement -

لاہور:(اوصاف ٹی وی) کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں حیران کن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن جاری ہےجس کی وجہ سےلوگ روزگار نہیں کما سکتے۔ اسی دوران بہت سے افراد غربت کا شکار ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح ہر اس وبا کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

- Advertisement -

اسی بارے میں بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم آکسفم کی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو 50 کروڑ لوگوں کے غربت کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 1990 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ آمدن میں 20 فیصد کمی آ جائے گی۔آکسفم کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں عالمی بینک کی جانب سے ایک اعشاریہ 90 ڈالر، 3 اعشاریہ 20 ڈالر اور 5 اعشاریہ 50 ڈالریومیہ کمانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ بھی پہلی مرتبہ ہو گا کہ تینوں طبقات اس سے متاثر ہو جائیں گے۔

عالمی سطح پر پہلے ہی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر کورونا وائرس پر قابو نہ پایا گیا تو تمام ممالک کو اس کے اثرات کا سامنا ہو گا۔ اس بارے میں خاص طور پر غریب ممالک کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل باقی ممالک سے بھی کم ہوتے ہیں۔ابھی تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد25 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ابھی تک 1 لاکھ 77 ہزار سے زیادہ افراد کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس میں ابھی تک کسی قسم کی کوئی کامیابی سامنے نہیں آئی جبکہ اس سے مزید خطرات کا سامنے کرنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

- Advertisement -

- Advertisement -

- Advertisement -

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu