ریشہ دار غذائیں کیوں ضروری ہیں؟

132

غذا ریشے دار ہو مگر کیوں؟ اس لیے کہ ریشے دار غذا کے متعدد فوائد ہیں۔ یہ قبض رفع کرتی ہے جو اکثر مغربی غذا کھانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ریشے دار غذا کھانے والوں کو قبض بہت کم ہوتا ہے۔ اس غذا سے عطیفِ قولون (Diverticulosis) حساس قولون، سوزش زائدہ، بواسیر اور ٹانگوں کی نمایاں نیلی رگوں (Varicose)سے بھی تحفظ ملتا ہے اور یہ مغربی غذا کھانے والوں کے عام امراض ہیں۔ ریشے دار غذا نہ صرف ان امراض سے تحفظ دیتی ہے، بلکہ یہ ان کا علاج بھی ہے۔

 

اس غذا سے شکرخون بھی اعتدال پر رہتی ہے اور ذیابیطس کے مرض میں کھائی جانے والی غذا میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ ریشے دار غذائیں، جن میں بغیر چھنا آٹا، بھوسی دار اناج، ترکاریاں اور پھل وغیرہ شامل ہیں، بعض اقسام کے سرطان سے تحفظ دیتی ہیں اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہیں۔ ان غذاؤں سے ضروری حیاتین معدنیات اور چکنے تیزاب بھی مل جاتے ہیں۔ لحمیات کی مناسب مقدار بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ ریشے دار غذائیں سب کے لیے فائدہ مند ہیں۔ پکی عمر کے بوڑھے بھی ریشے دار غذا سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

 

متوازن اور کم چکنائی والی ریشے دار غذا باعث لطف ہوتی ہے اور خوش ذائقہ بھی۔ اس غذا کے عناصر زیادہ ریشے دار اشیا ( اناج، ترکاریوں اور پھل) سے حاصل ہوتے ہیں اور چکنائی نہایت کم ہوتی ہے۔ اس غذا سے وزن بھی مناسب رہتا ہے۔ آج کل کے زمانے میں ایک خوش حال شہری کی غذا میں ریشے کی روزانہ کھائی جانے والی مقدار 20 گرام ہے۔اس کے برعکس ایک دیہاتی کی غذا میں روزانہ کھائے جانے والے ریشے کی مقدار 50

سے 120 گرام ہے۔

جنگ عظیم کے زمانے میں عام برطانوی شہری کی غذا میں ریشے کی مقدار 32 سے 40 گرام تھی۔ اس زمانے میں عارضہ قلب کم ہو گیا تھا۔ سبزی خوروں کی غذا میں روزانہ کھائے جانے والے ریشے کی مقدار 42گرام ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ مشورہ ہے کہ غذا میں رفتہ رفتہ ریشے کی مقدار بڑھا کر 30گرام کردی جائے، جو متنوع غذا سے حاصل کی جائے، یعنی غذا میں بغیر چھنے آٹے کی روٹی ترکاری، سبزیاں، دالیں، لوبیا، پھلیاں اور پھلوں کی مقدار بڑھائی جائے۔
پھلوں میں پایا جانے والا مادہ ”پیکٹن‘‘ اس ضمن میں بہت مفید ہے۔ اکثر لوگوں کے لیے اہم تبدیلی جو مشکل ہوتی ہے، وہ گوشت خصوصاً سرخ گوشت کھانا ترک کرنا ہے۔

 

جدید معلومات کے مطابق بعض قسم کے تیل کھانے سے خون میں سُدے کم بنتے ہیں برفانی علاقے میں رہنے والے افراد کو یہ تیل وہیل اور سیل مچھلی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں عارضہ قلب کا امکان کم ہوتا ہے۔ ہمارے لیے روغنی مچھلیاں مثلاً میکرل وغیرہ مفید ہیں۔ جن سے یہ مخصوص تیل مل جاتا ہے، ان کے کھانے سے سرخ رگوں میں سُدے بننے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔

 

دنیا کی اکثر اقوام کم چکنائی والی ریشے دار غذا کھاتی ہیں اور صحت مند رہتی ہیں۔ پانچ سال کی عمر تک بچوں اور بوڑھوں میں چکنائی کم کرنے سے چکنائی میں حل پذیر حیاتین اورغذائی توانائی کی کمی ہو سکتی ہے، جو بچوں کی نشوونما کے زمانے میں اور بوڑھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ بچوں اور بوڑھوں کو پینے کے لیے ملائی والا دودھ دیا جا سکتا ہے۔ بغیر چھنے آٹے کی روٹیاں، چھلکے والے اناج، بادامی چاول، ترکاریاں، سبزیاں، پھلیاں، دالیں، سالم مونگ، ماش، مٹر، چنا، لوبیا، سفید مچھلی، روغنی مچھلی، بغیر کھال کی مرغی، خرگوش کا گوشت، بغیر ملائی کا دودھ، گھریلو پنیر، انڈے کی سفیدی، ایک ہفتے میں انڈے کی دویا تین زردیاں اور چکنائی کم سے کم کھائی جائے ۔

 

سفید چاول، چھنا ہوا آٹا، خشک میوے، کلیجی، گردے، روکھا گوشت، تیل(سویا بین، سورج مکھی، تل، مکئی وغیرہ) اور نرم مارجرین معمولی مقدار میں کھا سکتے ہیں۔

 

آلو کے تلے ہوئے قتلے یا فرنچ فرائیز، ناریل، کیک، پیسٹریاں، پراٹھے، شربت، چکنائی والا گوشت، گوشت کی چربی، اوجھڑی، زبان ملائی ، مکھن، گھی، بناسپتی گھی، ناریل کا روغن، پام کا روغن ، مونگ پھلی اور اس کا تیل اور مونگ پھلی کا مکھن کھانے سے ہر ممکن حد تک احتراز کرنا چاہیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu