یتیموں کے ساتھ حسن سلوک

78

یتیم کی پرورش کا اجر:ایک دن رسول اﷲﷺ نے انگشت شہادت کو درمیانی انگلی سے جو ڑدیا اور پو چھا ”لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے؟صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عر ض کی ”نہیں یارسول اﷲﷺ‘‘ فرمایا ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح اکٹھے ہوجائیں گے ‘‘۔
سب سے بہتر گھر :سر کا ر دوعالم ﷺ نے فرمایا ”مسلمانوں کے گھروں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کیساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو،اور مسلمانوں کا سب سے بدتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کیساتھ بُرا سلوک کیا جا تاہو‘‘۔
سخت دلی کاعلاج :ایک شخص نے سرکار دوعالم ﷺکی خدمت میں عرض کیا ”یارسول اﷲ ﷺ میرا دل سخت ہے ،اس کا علاج کیا ہے ؟فرمایا ”یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرا کرواور مسکین کو کھا نا کھلایا کرو‘‘(احمد ۔مشکوٰۃ )
یتیموں کو سینے سے لگانا:حضرت اسما بنت عمیس رضی اﷲتعالیٰ عنہا (زوجہ جعفر طیا ر رضی اﷲتعالیٰ عنہ )فرما تی ہیں ”جس دن حضرت جعفر (غزوہ مُوتہ )میں شہید ہوئے،رسول اﷲﷺ میرے گھر تشریف لائے ۔میں اس وقت چالیس کھالوں کی دغابت کرچکی تھی اورآٹا پیس کر بچوں کو نہلا دُھلاکر تیل مل چکی تھی کہ اتنے میں حضور ﷺ تشریف لے آئے ۔
فرمایا ”اسما ء جعفر کے بچے کہاں ہیں ؟‘‘ میںنے ان کو حاضر کردیا ۔حضور ﷺنے بچوں کو سینے سے لگایا اور معاً آپﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپﷺ رو پڑے ۔میں نے عرض کی ”یارسول اﷲﷺ :۔شاید آپؐ کوجعفر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی طرف سے کچھ خبر آئی ہے ‘‘؟ فرمایا :”ہاں ۔اور وہ آج شہید ہوگئے ‘‘یہ سن کر میں چلانے لگی ۔عورتیں جمع ہو گئیں۔حضورﷺ نے فرمایا ”اسما ء (رضی اﷲتعالیٰ عنہا)لغونہ بول اور سینہ نہ پیٹ ‘‘(طبقات ابن سعد)
یتیم کی پاسداری :حضرت معروف کرخی علیہ الرحمۃ عید کے دن نخلستان میں گری پڑی کھجوریں چُن رہے تھے ۔یہ دیکھ کرایک شخص نے پوچھا ”حضور !کھجوریں کس لئے چُن رہے ہیں‘‘فرمایا میں نے ایک لڑکے کو روتے ہوئے دیکھا ۔میں نے پوچھا ”تم کیوں رورہے ہو؟لڑکا بولا ”میں یتیم ہوں ۔یہ لڑکے اخروٹوں سے کھیل رہے ہیں اور میر ے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اخروٹ خرید کران کیساتھ کھیل سکو ں‘‘اس لئے میں کھجوریں چُن رہاہوں تاکہ انہیں فروخت کرکے اس یتیم بچے کو اخروٹ لے دو‘‘(احیاء العلوم )
یتیموں کامال ناحق کھانے کی سزا:حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دھنی علیہ الرحمۃ نے جما عت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا”حضرت نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ جو شخص یتیموں کامال ناحق کھائے گا اس کو قبر میں فرشتے اس طرح عذاب دیں گے کہ جہنم کی آگ میں پتھر تپا کر اس کے منہ میں ڈالیں گے ۔یہ پتھر (اس کے اندرونی اعضاء کو جلاتے ہوئے)اس کی مقصد سے نکلتے جائیں گے اور عذاب کے فرشتے اس مجرم کویوں کہتے جائیں گے ”جس طرح تو دنیا میں یتیموں کامال کھایا کرتا تھا، اسی طرح یہ پتھربھی کھا‘‘ (ملفوظات روضے دھنی )
خوش قسمت یتیم :ایک مرتبہ عید کا دن تھا اور سرکار دوعالم ﷺ تشریف لئے جارہے تھے راستے میں بچے کھیل کود رہے تھے ۔حضور پاک ﷺ نے دیکھا کہ ایک لڑکا سب سے الگ تھلگ مغموم وافسردہ بیٹھا ہے اور کھیل کودمیں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ۔ حضور پاک ﷺنے پوچھا کیابات ہے؟اس نے کہا ”میں یتیم ہوں ،کوئی نہیں جو میری سرپرستی کرے۔حضور پاک ﷺ نے اس سے فرمایا” کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ(حضرت) محمد ﷺ تمہارا باپ ہو، (حضرت)عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہاتمہا ری ماں ہو اور (حضرت)فاطمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا تمہاری بہن‘‘ بچہ خوش ہوگیا۔ بولا” ہاں یارسول اﷲ ﷺ‘‘۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا ”میرے ساتھ چلو‘‘اس طرح وہ حضورپاک ﷺ کے ساتھ گھر آ گیا۔وہ افضل ترین باپ ، ماں اور بہن کے دامن شفقت میں پہنچ گیا۔
یتیم، بیوہ اور وقف کا مال نا حق کھانے سے بربادی آتی ہے۔ جو اس اسم کو اپنے بچے کے سر پر پندرہ (۱۵) بار پڑھ کر یہ دعا مانگے : {اَللّٰھُمَّ بِبَرَکَۃِ ھٰذَا الْاِسْمِ رَبِّہٖ لَا یَتِیْمًا وَلَا لَئِیْمًا} تو انشاء اللہ یہ دعا قبول ہوگی اور بچہ نہ یتیم ہوگا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.