امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال کو مسترد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پینٹاگون کے سربراہ نے امریکا میں جاری مظاہرے روکنے کے لیے

14

واشنگٹن(اوصاف ٹی وی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پینٹاگون کے سربراہ نے امریکا میں جاری مظاہرے روکنے کے لیے فوجیوں کے استعمال کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال کو مسترد کردیا ہے. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکرٹری دفاع مارک ایسپر دونوں ہی ٹرمپ کے پہلے وزیر دفاع جم میٹیس کی تنقید کی زد میں آئے ہوئے ہیںان پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹرمپ نے امریکا کی سڑکوں پر ”غلبہ پانے“ کے لئے فوج کو استعمال کرنے کی دھمکیاں دی تھیں.

واضح رہے کہ امریکا میں گورے پولیس افسر کے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو اپنے گھٹنوں میں کئی منٹوں تک دبائے رکھنے کے بعد اس کی موت پر احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں‘امریکی صدر نے گورنرز پر زور دیا تھا کہ وہ نیشنل گارڈ کو احتجاج جو پرتشدد شکل اختیار کرگئے ہیں، پر قابو پانے کے لیے طلب کریں اور متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ فعال ڈیوٹی فوجی دستے بھیج سکتے ہیں.

مارک ایسپر نے ٹرمپ کو ناراض کیا جب انہوں نے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فوجی دستوں کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکا میں 1807 کے قانون کو صرف انتہائی ضروری اور انتہائی سنگین حالات میں ہی نافذ کیا جانا چاہیے جبکہ اب ہم ان حالات میں نہیں ہیں. تاہم بعد ازاں وائٹ ہاﺅس کے دورے کے بعد پینٹاگون نے اچانک واشنگٹن سے سینکڑوں ایکٹو ڈیوٹی فوجیوں کو گھر بھیجنے کے ابتدائی فیصلے کو واپس لے لیا جو وائٹ ہاﺅس کے ساتھ تنازع میں اضافے کی علامت ہے.

سابق سیکرٹری جم میٹیس جو ایک ریٹائرڈ میرین جنرل بھی رہے ہیں نے اخبار ”دی اٹلانٹک“ میں ایک مضمون میں ٹرمپ اور ایسپر دونوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حاضر سروس فوجی اہلکاروں کے استعمال پر غور کرنے اور ان پر بڑے پیمانے پر وائٹ ہاﺅس کے باہر جاری پرامن احتجاج کو ہٹانے میں استعمال کرنے پر تنقید کی‘جم میٹیس نے ایسپر اور ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ہمیں اپنے شہروں کو میدان جنگ بنانے کا خیال مسترد کرنا ہوگا جس کے لیے وردی میں فوج کو غلبہ حاصل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جوابی کارروائی، جیسا ہم نے واشنگٹن میں دیکھا، سے فوج اور شہریوں کے درمیان تنازع قائم ہوگا‘ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر جم میٹیس کو ”دنیا کے سب سے مغلوب جنرل“قرار دیتے ہوئے رد عمل دیا کہ مجھے ان کی قیادت کا انداز یا اس کے بارے میں کچھ بھی پسند نہیں تھا کئی لوگ مجھ سے متفق ہیں خوشی ہے کہ وہ چلے گئے کچھ دن قبل مارک ایسپر نے فوج کے تقریبا ایک ہزار 300 جوانوں کو ملک کے دارالحکومت کے بالکل باہر فوجی اڈوں پر بھیجنے کا حکم دیا تھا.

ان کے یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے تھے جب ٹرمپ نے پرتشدد احتجاج پر بغاوت ایکٹ کو نافذ کرنے اور شہر میں فوج بھیجنے پر زور دیا تھا‘ہفتے کے روز نیشنل گارڈ کے دستے اور بھاری تعداد میں مسلح وفاقی قانون نافذ کرنے والے ایجنٹس کی بھاری نفری کے ذریعہ لوگوں کو منتشر کرنے کے بعد دفاعی عہدیداروں نے کہا کہ فوجی اپنے اڈوں پر واپس چلے جائیں گے.

تاہم آرمی سیکرٹری ریان مک کارتھی نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ ایسپر کے وائٹ ہاﺅس کے دورے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے‘وائٹ ہاﺅس نے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا کہ جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واپس لیا ہے اس تبدیلی سے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کے لیے امریکی صدر کی دھمکیوں میں بغاوت ایکٹ کے نفاذ کے فیصلے میں وزن بڑھ گیا.

وائٹ ہاﺅس کے عہدیداروں نے ایسپر کے تبصرے سے پہلے اشارہ دیا تھا کہ ٹرمپ اس فیصلے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ناراض ہیں کہ ایسپر کے بیان میں ہمیں ”کمزور“ بتایا گیاوائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری کیلی مک انینی نے کہا کہ ایسپر کے تبصروں کے باوجود صدر ابھی بھی وفاقی فوج تعینات کرنے پر راضی ہیں‘انہوں نے بتایا کہ اگر ضرورت ہوئی تو صدر اسے استعمال کریں گے لیکن اس وقت وہ نیشنل گارڈ کے ساتھ سڑکوں پر اضافے پر بھروسہ کررہے ہیں یہ کافی موثر ثابت ہوا ہے ‘دریں اثنا امریکی صدر وفاقی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے افسران کو ملک کے دارالحکومت میں تعینات کرنے کا سہرا اپنے سر لے رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ یہ ریاستوں کے لیے مثالی بنا ہے کہ وہ ملک بھر میں مظاہروں کے ساتھ ہونے والے تشدد کو کیسے روک سکتے ہیں بدھ کی شام کو واشنگٹن میں فوج سڑکوں پر موجود تھی دفاعی حکام نے بتایا کہ نیشنل گارڈ کے کم از کم 2 ہزار 200 اہلکار سڑکوں پر ہوں گے‘ہیلمٹ پہنے فورسز نے وائٹ ہاﺅس سے لے کر لیفائٹ پارک کے آس پاس تک کا دائرہ بنایا جبکہ فوجی گاڑیاں چوراہوں پر کھڑی تھیں اور راستے بند ہوگئے تھے.

پینٹاگون کے سربراہ پر ٹرمپ کے اعتماد کے حوالے سے سوال کے جواب میں میک انینی نے کہا ابھی تک سیکرٹری دفاع ایسپر ہی ہیں اگر صدر کا اعتماد ختم ہوتا ہے تو ہمیں مستقبل میں اس کے بارے میں معلوم ہوجائے گا‘مارک ایسپر نے پینٹاگون کے ریمارکس میں پچھلے ہفتے ہونے والے واقعے پر پولیس کی کارروائی پر بھی کڑی تنقید کی تھی جس نے احتجاج کو ہوا دی انہوں نے جارج فلائیڈ کی موت کو قتل اور ایک خوفناک جرم قرار دیا تھا.

تاہم سیکرٹری دفاع خود بھی سینٹ جان چرچ کے سامنے صدارتی تصویر کے لیے ٹرمپ اور دیگر افراد کے ساتھ وائٹ ہاﺅس سے نکلنے پر ریٹائرڈ سینیئر سینئر فوجی افسروں سمیت ناقدین کی گرفت میں آگئے تھے‘مارک ایسپر نے بتایا کہ وہ جانتے تھے کہ وہ سینٹ جان چرچ کی طرف جارہے ہیں تاہم یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں کیا ہوگا‘انہوں نے کہا میں نہیں جانتا تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ پولیس نے ٹرمپ اور ان کے قافلے کا راستہ صاف کرنے کے لیے لفائتی اسکوائر میں پر امن مظاہرین کو جبری طور پر منتشر کیا تھا‘خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے یکطرفہ طور پر شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد ریٹائرڈ جنرل نے دسمبر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کو خیر باد کہہ دیا تھا.

یاد رہے کہ وائٹ ہاﺅس نے لفائتی پارک میں ہونے والے اس واقعے کی ذمہ داری اٹارنی جنرل ولیم بار پر عائد کردی اور کہا کہ انہوں نے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حکم دیا تھا کہ ٹرمپ کے چرچ جانے سے قبل احتجاج کو ختم کردیں. دوسری جانب مک انینی نے کہا کہ فیصلہ پہلے ہی کرلیا گیا تھا لیکن ولیم بار کے موقع پر پہنچنے اور صورتحال کا جائزہ لینے تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا تھا اور انہوں نے ہی اس وقت یہ حکم دیا تھا.

انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ کارروائی اپنی بھرپور قوت کے ساتھ کی جس میں کالی مرچ کے اسپرے اور دیگر کیمیائی اشیا کا استعمال کیا گیا اور گھوڑوں کے پیٹھ پر لاٹھیوں سے لیس افسران شامل تھے جنہوں نے مکمل طور پر پرامن مظاہرین پر مشتمل ہجوم کو ہٹایا. ٹرمپ نے اپنی ریاستوں پر تنقید کو ایک سیاسی رخ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں مسائل ہیں وہاں ریپبلکنز کی حکومت نہیں اسے لبرل ڈیموکریٹس چلاتی ہے‘جہاں ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے واشنگٹن کے مظاہروں پر کریک ڈاﺅن کی تعریف کی وہیں چند ریپبلکنز نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے افسران مظاہرین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا خطرہ مول رہے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.