پاکستان میں کورونا مریضوں کا سراغ: پنجاب میں کورونا کے دوسرے بڑے گڑھ گجرات میں مریضوں کا سراغ کیسے لگایا جا رہا ہے؟

40

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات کے رہائشی محمد حفیظ (فرضی نام) ان مریضوں میں شامل ہیں جو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد حفیظ ان نوجوانوں میں سے ہیں جنھیں روزگار کی خاطر بیرون ملک جانے کا شوق تھا۔

وہ سنہ 2004 کے وسط میں ایک ایجنٹ کے ذریعے یورپ کے کسی بھی ملک جانے کے لیے گھر سے نکلے اور سنہ 2005 میں روزگار کے سلسلے میں سپین پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

ہوائی جہاز کے ذریعے چند گھنٹوں کا فاصلہ آٹھ ماہ میں کیسے طے ہوا یہ ایک الگ کہانی ہے۔

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ وہ سپین کے شہر میڈرڈ میں گذشتہ دس سال سے ایک فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور گذشتہ پانچ برس سے سپین میں قیام کے کاغذات کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد وہ ہر سال پاکستان کا چکر لگاتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپین میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے فیکٹری بند ہو گئی اور سپین کی حکومت نے لوگوں کو گھروں میں مقید کرنا شروع کر دیا تو اُس نے سوچا کہ یہاں فلیٹ میں مقید ہونے سے بہتر ہے کہ پاکستان واپس جایا جائے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔

محمد حفیظ گذشتہ ماہ یعنی مارچ کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آ گئے اور لاہور ایئرپورٹ پر اترے۔

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionمحمد حفیظ کے ورثا مطابق اس کے بیوی بچوں اور اس کے ساتھ رہنے والے حفیظ کے بہن بھائیوں کے بھی ٹسیٹ کیے گئے جو منفی آئے ہیں

محمد حفیظ کے مطابق اگرچہ وہ ایک ایسے ملک سے آئے تھے جہاں پر کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن اس کے باوجود لاہور ایئرپورٹ پر تعینات امیگریشن کے عملے کے کسی بھی اہلکار نے نہ تو انھیں روکا اور نہ ہی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بارے میں پوچھا۔

انھوں نے کہا کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد حکام نے انھیں جانے کی اجازت دے دی۔

ادھر گجرات پولیس کا کہنا ہے کہ محمد حفیظ کا نام بھی اسی فہرست میں شامل تھا جو حال ہی میں بیرون ملک سے آئے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق مذکورہ شخص کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر پکڑ کر ہسپتال لے کر گئے جبکہ محمد حفیظ کے ورثا کا کہنا ہے کہ بخار کی علامات ظاہر ہونے کے بعد وہ خود چیک اپ کے لیے ہسپتال گئے تھے جہاں پر اس کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔

محمد حفیظ کے ورثا مطابق اس کے بیوی بچوں اور اس کے ساتھ رہنے والے حفیظ کے بہن بھائیوں کے بھی ٹسیٹ کیے گئے جو منفی آئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 35 سالہ محمد حفیظ کی آواز بھر آئی اور وہ کہنے لگے کہ ’میں تو بیرون ملک کمائی کے لیے گیا تھا لیکن بیماری لے کر آ گیا ہوں۔‘

پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں پر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے اور اس وائرس سے متاثرہ افراد پاکستان سے نہیں بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آئے ہیں اور پاکستان میں یہ وبا غیر ملکیوں سے کم اور پاکستانیوں سے زیادہ پھیلی ہے۔

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionیورپی ممالک میں اگر سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں تو ان میں زیادہ کا تعلق گوجرانوالہ ریجن سے ہے جن میں گجرات اور سیالکوٹ شامل ہیں

گجرات پنجاب میں کورونا مریضوں کا دوسرا بڑا گڑھ

پاکستانی صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور جہاں پر کورونا کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے تو آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وسطی شہر گجرات کورونا کے مریضوں کا دوسرا بڑا گڑھ بن چکا ہے۔

اس شہر میں حکام کے مطابق مریضوں کی تعداد ایک سو کے قریب ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔

اس شہر میں مصدقہ اور مشتبہ مریضوں کی تعداد میں اس لیے اضافہ نہیں ہوا کہ یہاں کے مقیم رائے ونڈ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع سے ہو کر آئے ہیں بلکہ اس شہر میں کورونا کے جتنے بھی مصدقہ مریض ہیں وہ یورپ کے ان ممالک سے آئے ہیں جہاں پر کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیلا ہے۔ ان ممالک میں سپین اور اٹلی شامل ہیں۔

یورپی ممالک میں اگر سب سے زیادہ پاکستانی آباد ہیں تو ان میں زیادہ کا تعلق گوجرانوالہ ریجن سے ہے جن میں گجرات اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک جانے والے افراد کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionبی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کا سراغ لگانے میں محکمہ مال کے اہلکاروں یعنی پٹواریوں نے بڑی مدد کی ہے

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران چار ہزار کے قریب ایسے پاکستانی واپس آئے ہیں جن کا تعلق ضلع گجرات اور اس کی دو تحصیلوں سے ہے اور یہ افراد روزگار کے سلسلے میں یورپی ممالک میں مقیم ہیں۔

ڈپٹی کمشنر گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اُنھیں ایف آئی اے حکام کی طرف سے جو فہرست فراہم کی گئی ہے وہ 2125 افراد کی ہے جن کا تعلق ضلع گجرات اور اس کی تحصلیوں سے ہے۔ کھاریاں اور سرائے عالمگیر گجرات کی تحصیلیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مزکورہ تعداد میں سے 2061 افراد کا سراغ لگا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کا سراغ لگانے میں محکمہ مال کے اہلکاروں یعنی پٹواریوں نے بڑی مدد کی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر افراد سپین، اٹلی، ہالینڈ اور ترکی سے آئے ہیں۔ یورپی ملکوں میں اٹلی اور سپین کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان ممالک میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اس وائرس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے دعویٰ کیا کہ ان تمام افراد کے ابتدائی ٹیسٹ کروائے گیے ہیں جن میں سے 90 افراد میں کورونا وائرس کی علامات پائی گئی ہیں جبکہ 532 افراد پر شبہ ہے کہ ان میں کورونا وائرس کی علامات ہوسکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ باقی افراد میں کورونا وائرس کی علامات نہیں پائی گئیں۔

باقی ماندہ افراد کے بارے میں ڈاکٹر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ان کی تلاش جاری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ابھی تلاش نہیں کیا جاسکا وہ اپنے خاندان اور دیگر افراد کے لیے ایک بہت برا خطرہ ہیں اور ان کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionاُنھوں نے کہا کہ ان غیر ملکیوں کو کہاں رکھا گیا ہے اس بارے میں متعلقہ حکام بتانے سے قاصر ہیں

مقامی صحافی عامر بٹ کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں سے بہت سے افراد روپوش ہوگئے ہیں اور حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ان سے متعلق معلومات دینے کو تیار نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پاسپورٹ پر درج کروائے گئے پتے پر نہیں رہ رہے اور ایسے لوگ کدھر ہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

عامر بٹ کے مطابق گجرات کی تحصیل کھاریاں کے عاقے ڈنگہ میں ایسے درجنوں افراد کے بارے میں معلومات نہیں مل رہیں جو تین ہفتے قبل بیرون ممالک سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے کے زیادہ تر افراد پورپی ممالک اور ناروے میں مقیم ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ چند روز قبل سرگودھا روڈ پر واقع ایک افغان بستی پر پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور وہاں پر رہنے والے درجنوں افعانیوں کو کورونا وائرس کے مشتبہ ہونے پر اسی ایمبولنس میں بھر کر گئے جہاں پر کورونا کے صرف ایک مریض کو لے کر جایا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان غیر ملکیوں کو کہاں رکھا گیا ہے اس بارے میں متعلقہ حکام بتانے سے قاصر ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے اس فہرست میں شامل ایسے افراد کی تلاش کے لیے گاوں کی مساجد میں اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں جس میں لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ ایسے افراد کے بارے میں اُنھیں کوئی علم ہو تو وہ فوری طور پر متعقلہ تھانے میں اس سے متعلق آگاہ کریں۔

ڈپٹی کمشنر گجرات کا کہنا تھا کہ اس شہر سے تعلق رکھنے والے ایسے 74 افراد کا بھی سراغ لگایا گیا ہے جنھوں نے لاہور کے مضافاتی علاقے رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

کورونا کے مریضوں کے لیے شہر کے تین ہسپتالوں میں قرنطینہ مراکز بنائے گئے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان مریضوں کی ہر طرح کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے دیکھ بھال کے لیے اس ضلعے میں ایمبولنس ہیں جن میں سے دو گجرات شہر کے لیے جبکہ باقی ایک ایک دو تحصیلوں کے لیے ہے۔

پاکستانتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionبعض مسافروں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اُنھوں نے امیگریشن کے عملے کو رشوت بھی دی ہے تاکہ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے وقت وہ کسی مشکل کا شکار نہ ہوں

ایف آئی اے کا کردار

کورونا وائریس کے پھیلاؤ کے بعد یورپی ملکوں اور بالخصوص سپین اور اٹلی سے آنے والے افراد کو مبینہ طور پر ایئرپورٹ پر چیک نہ کرنے کی وجہ سے ایف آئی اے کے امیگریشن حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

ڈیڑھ ماہ قبل واپس آنے والے کچھ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر کسی بھی مشتبہ کورونا کے مریض کو چیک کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب وہ اپنا سامان لے کر باہر نکلنے کے لیے لاونج سے باہر آتے تو وہاں پر موجود امیگریشن کا عملہ صرف مسافروں سے یہ پوچھتا تھا کہ کہیں وہ کورونا کا شکار تو نہیں ہیں اور تقریباً تمام مسافر ہی یہی کہتے کہ وہ ایسی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہیں تو ایف آئی اے کے حکام اُنھیں جانے کی اجازت دے دیتے۔

بعض مسافروں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اُنھوں نے امیگریشن کے عملے کو رشوت بھی دی ہے تاکہ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے وقت وہ کسی مشکل کا شکار نہ ہوں۔

ایف آئی اے کے حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون ڈاکٹر معین کا کہنا ہے کہ کورونا کے حوالے سے ادارہ بہت سنجیدہ ہے اور کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا گیا جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.