ڈیزل پر 46جبکہ پٹرول پر فی لیٹر پاکستانیوں سے 35روپے وصول کیے جانے لگے، معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا

70

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزارت پٹرولیم نے سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسز سے متعلق تفصیلات جمع کروا دیں۔ وزارت پٹرولیم نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ سال 2017-18ء میں لیوی ٹیکس کی مد میں 178ارب روپے کی رقم جمع کی گئی۔سال 2018-19ء میں لیوی ٹیکس کی مد میں 206 ارب روپے کی رقم جمع ہوئی۔ڈیزل کی موجودہ قیمت127.26روپے ہے، اس پر 46 روپے28 پیسے ٹیکس ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 84.91 روپے ہے، اس پر15.28روپے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ پٹرول کی قیمت116.60 روپے ہے،
جبکہ اس پر 35.55روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

کیروسین آئل کی قیمت 99.45روپے ہے۔ اس پر 20 روپے45 پیسے ٹیکس لیا جاتا ہے۔ تحریری جواب میں سینیٹ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت 38 فعال غیرملکی تیل کمپنیوں کو آئل گیس کی تلاش کیلئے لائسنس دیے گئے۔سندھ میں تیل تلاش کرنے کیلئے 5 نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی۔ سندھ میں تیل کی تلاش کیلئے سکیورٹی کلیئرنس کیلئے وزارت دفاع کوکہا ہے۔ اس سے قبل سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے وفاقی وزیر پٹرولیم کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ کہ حکومت نے پارلیمانی کمیٹیز کا تماشہ بنایا ہوا ہے، کمیٹیز میں کوئی جوابدہی نہیں ہو رہی،وزیر پیٹرولیم کیوں نہیں آئے۔ منگل کو سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گیس بحران پر توجہ دلائو نوٹس ایجنڈا میں شامل تھا ۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم کی عدم موجودگی پر سینیٹر شیری رحمان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے

کہاکہ اس حکومت نے پارلیمانی کمیٹیز کا تماشہ بنایا ہوا ہے، کمیٹیز میں کوئی جوابدہی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم کیوں نہیں آئے، پورے ملک میں گیس کا شدید بحران ہے، اگر وزیر نہیں تو اجلاس کیوں رکھا گیا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ 70 فیصد گیس پیدا کرنے والے صوبے میں گیس بحران کیوں ہے یہ پوچھنے کا حق ہے۔ انہوںنے کہا کہ 6 مہینے گزر گئے حکومت جواب نہیں دے رہی گیس کا بحران کیوں اور کیسے پیدا ہوا مجھے گیس بحران پر وزیر سے جواب چاہئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.