اسمبلی کا اجلاس ہوسکتا ہے تو کاروبار کیوں نہیں؟

پنجاب اسمبلی اجلاس کے لیے بزنس ایڈوائیزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر چیمپبرز میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پر ویزالہی کی صدارت میں جاری ہے.

107

لاہور(اوصآف ٹی وی) پنجاب اسمبلی اجلاس کے لیے بزنس ایڈوائیزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر چیمپبرز میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پر ویزالہی کی صدارت میں جاری ہے. اجلاس میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہبازشریف کی جانب سے ان کی جماعت کے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر شریک ہیں اور صوبائی اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان موجود ہیں .

ایک طرف صوبے میں لاک ڈاﺅن جاری ہے جسے صوبائی حکومت سرکاری طور پر ماننے سے انکاری ہے اور ان پابندیوں کو جزوی لاک ڈاﺅن قراردیتی ہے تو کبھی یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ صرف متاثرہ علاقوں کو بند کیا گیا ہے مگر عملی طور پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں صرف کریانہ سٹور‘سبزی ‘گوشت اورپھلوں کی دوکانیں اورمیڈیکل سٹورشامل ہیں . یہی صورتحال پنجاب کے دیگر شہروں میں لاہور سمیت تمام بڑوں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہے ‘حتی کہ حجام‘درزیوں‘فریج‘اے سی مرمت ‘موبائل فون اور کمپیوٹر مرمت کی دوکانوں سمیت 90فیصد کاروبار مکمل طور پر بند ہیں ان حالات میں حکومت پنجاب نے 8مئی کو دن 2بجے پنجاب کی 17ویں اسمبلی کا22واں اجلاس طلب کررکھا ہے جس کا گزٹ نوٹیفکیشن 2جولائی کو گورنر پنجاب کے دستخطوں سے جاری کیا گیا تھا.

یہاں سماجی اور شہری حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ حکومت چھوٹے کاروبار والوں کو ایس او پیزپر عمل درآمد کی یقین دہانیوں کے باوجود دوکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی رہی مگر پنجاب اسمبلی جس کے ہال میں ممبران کی تعداد 369 کی گنجائش نہیں ممبران کی نشتوں کو پورا کرنے کے لیے پہلے ہی مہمانوں کی گیلری کو مکمل طور اور صحافیوں کی گیلری کا کچھ حصہ لیا گیا ہے .

ایوان میں لگی بنچ نما نشستوں پر ایک رکن کا فاصلہ دوسرے سے 6انچ بھی بمشکل ہوتا ہے جبکہ صحافیوں کی گیلری میں سماجی فاصلہ قائم کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر ان حالات میں اجلاس بلایا جاسکتا ہے تو پھر صوبے کو لاک ڈاﺅن رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہتا پنجاب حکومت کے پاس ‘اس اجلاس سے لاک ڈاﺅن برقرارر کھنے کے لیے پنجاب حکومت کے پاس کوئی اخلاقی‘قانونی یا آئینی جواز نہیں رہے گا.

کیا پنجاب اسمبلی بزنس ایڈوائزری کمیٹی اعلان کردہ تاریخ پر اجلاس بلانے پر متفق ہوتی ہے؟ اور اگر کمیٹی اجلاس بلانے پر متفق ہوجاتی ہے تو کیا آدھے اراکین کو اجلاس کے لیے بلایا جائے گا تاکہ سماجی فاصلہ قائم رکھا جاسکے؟ کیونکہ وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی اداروں کے ہر حال میں جون تک لاک ڈاﺅن برقراررکھنے کی یقین دہانی کرواچکی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu