شریف خاندان کی پریشانیوں میں ہوا مزید اضافہ، ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

شریف فیملی کی مبینہ منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیوں کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا ہے۔

82

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز نے مبینہ منی لانڈرنگ کے لیے اپنے قریبی دوست کا سہارا لیا۔

نیب ذرائع کے مطابق شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کے الزامات میں گرفتار نثار احمد سلمان شہباز کے بچپن کے دوست ہیں۔ سلمان شہباز نے مبینہ منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیوں کے لیے اپنے دوست کا سہارا لیا

نیب ذرائع کے مطابق نثار احمد،علی احمد خان اور سلمان شہباز کالج میں ایک ہی کلاس میں پڑھتے رہے ہیں۔
نیب ذرائع کے مطابق سلمان شہباز کی جانب سے نثار احمد کو 11 کروڑ سے زائد کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ سلمان شہباز نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نثار احمد کو چیف منسٹر ہاؤس پنجاب تعینات کروایا تھا

ذرائع کے مطابق نثار احمد چیف منسٹر ہاؤس پنجاب ڈائریکٹر پولیٹکل افئیرز کے طور پر تعینات رہے ہیں۔ نثار احمد اور علی احمد خان
شریف فیملی کی بے نامی دار کمپنیوں کو بھی دیکھتے رہے ہیں

 

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان شہباز نے نثار احمد کے نام سے یونی ٹاس کمپنی اور گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی بنائی گئی۔ نثار احمد 2009 سے 2018 کے دوران سرکاری ادارے میں ملازمت بھی کرتا رہا

ذرائع کے مطابق نثار احمد اس دوران چیف منسٹر ہاؤس اور شریف فیملی کی کمپنیوں کا ڈائریکٹر بھی تھا۔ یہ کمپنیاں شریف فیملی کے لیے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور دیگر فوائد کے لیے قائم کی گئی تھیں

 

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یونی ٹاس اور گڈ نیچر سے شریف فیملی اب تک 5 ارب روپے تک کا فائدہ حاصل کر چکی یے۔ نثار احمد کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کرنے کے شواہد بھی موصول ہوئے ہیں

 

نیب کے مطابق ملزم نثار احمد ایس اینڈ جی اے ڈی پنجاب میں 2009 سے 2018 تک کنٹریکٹ پر بھی کام کرتا رہا ہے
خیال رہے کہ چیئرمین نیب نے 30 جولائی 2019 کو نثار احمد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ نثار احمد کو 24 اکتوبر 2019 کو گرفتار کیا گیا۔ نثار احمد نے 58 روز تک نیب کی حراست میں جسمانی ریمانڈ کاٹا۔ نثار احمد اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.