گیس انفراسٹرکچر سے اکٹھے کیے گئے دو کھرب 95ارب روپے ہضم کر گئی

110

اسلام آباد( آن لائن )حکومت گیس انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) سے اکٹھا کیے گئے 2 کھرب 95 ارب روپے کو ریاست کے عام ریونیو میں تبدیل کرچکی ہے اور بہت تھوڑی رقم گیس منصوبوں پر خرچ کیے جارے ہیں جو اس کا نفاذ کا حقیقی مقصد تھا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے سی این جی اسٹیشنز کے نمائندہ مخدوم علی خان نے کہا کہ حکومت نے فنڈز کو عام ریاستی ریونیو سے ملا دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ 2 کھرب 95 ارب روپے میں سے 48 کروڑ 70لاکھ روپےترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (تاپی) پائپ لائن منصوبے پر خرچ کیے گئے ہیں.

انہوں نے موقف اپنایا کہ اکٹھا کیا گیا سیس کو آئی پی، تاپی، ایل این جی کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر سمیت دیگر منصوبوں پر خرچ کرنا تھا تاہم اس کا مقصد ختم کردیا گیا اور اب تک حکومت ایل پی جی کے منصوبوں پر خاموش ہے. مخدوم علی خان سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سے وفاقی حکومت کی گیس انفرا اسٹرچکر ڈیویلپمنٹ سیس ایکٹ 2015 سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران موقف پیش کر رہے تھے، دوران سماعت جسٹس مشیر عالم نے سوال کیا کہ ممالک کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری پر اس کا کیا اثر پڑے گا جن کے ساتھ پاکستان نے باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے.مخدوم علی خان نے موقف اپانایا کہ اب تک کوئی خصوصی فائدہ کسی کو اس فنڈ سے نہیں ملا ہے، وفاقی حکومت نے عدالت عظمی کو بتایا کہ اخراجات کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی کیونکہ معاملہ کافی عرصے سے عدالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 سے 2019 تک سیس کے استعمال پر ٹھوس رپورٹ کا ڈرافٹ بنالیا گیا ہے اور اسے جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.جی آئی ڈی سی ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت حکومت سیس کے استعمال کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مالی سال کے ختم ہونے کے 3 ماہ میں پیش کرنے کی پابند ہے،

گزشتہ سال 25 نومبر کو عدالت عظمی نے وفاقی حکومت سے سوال کیا تھا جی آئی ڈی سی اکٹھا کرنے کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے کہ نہیں اور اگر ایسی کوئی رپورٹ پیش نہیں کی جاری تو حکومت کو چاہیے کہ وہ وضاحت دے کہ ایسی کوئی معلومات پارلیمنٹ میں کیوں نہیں سامنے لائی گئیں۔ حکومت نے وضاحت دی تھی کہ جی آئی ڈی سی کے نفاذ پر سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں مین جاری کیسز کی وجہ سے تقریبا 42 کروڑ روپے گزشتہ سال 30 جون سے رکے ہوے ہیں جہاں تک گردشی قرضوں کی بات ہے حکومت کے لیے گیس کی لاگت اور جی آئی ڈی سی کے تحت قابل وصول رقم کا معاملہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کا مسئلہ حل کرنے کے بعد حل ہوگا.رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قریب ماضی میں حکومت نے سکوک بانڈ جاری کیے تھے تاکہ گردشی قرضوں کا کچھ حصہ ختم ہوجائے اور گردشی قرضوں کے لیے حکومت 2 کھرب 50 ارب روپے کے ایک اور سکوک بانڈ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے جی آئی ڈی سی کا معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب حکومت نے متنازع آرڈیننس کے ذریعے فرٹیلائزر کی صنعت، آئی پی پیز، توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں، کے الیکٹرک اور سی این جی کے شعبے کے لیے 2 کھرب 10 ارب روپے کے گرانٹ کی پیشکش کی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu