لاک ڈاؤن سے گلگت بلتستان کے ہزاروں شہری کراچی میں محصُور

89
گلگت بلتستان:(اوصاف ٹی وی) گلگت بلتستان سے اعلیٰ تعلیم اورعلاج معالجے کے لیے کراچی آئے ہزاروں افراد بالخصوص طلبہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ کھانے پینے کے علاوہ انہیں رہائش میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ہر سال گلگت بلتستان سے ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کراچی آتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ اور یونیورسٹی کے یہ طلبہ مختلف ہاسٹلز اور گھروں میں قیام کرتے اور خرچہ پورا کرنے کے لیے چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے اور ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی لاک ڈاؤن کے سبب یہ طلبہ مسائل کا شکار ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی آنے والے بیشتر طلبہ اپنی تعلیم اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے ہوٹلوں میں بطور ویٹر پارٹ ٹائم نوکری کرتے یا ٹیوشن پڑھا کہ اپنا جیب خرچ پورا کرتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب ہوٹل اور ریستوران بند ہونے سے یہ تمام افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ کچھ طلبہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے لیکن امتحانات ملتوی ہونے اور سماجی فاصلے قائم رکھنے کی وجہ سے اب ٹیوشن بھی نہیں ہو رہی لہٰذا ان کا جیب خرچ بھی بند ہو کر رہ گیا ہے۔

’ہاسٹلز اور فلیٹ میں شیئرنگ کی بنیاد پر رہنے والے تمام طلبہ ہی ہوٹلوں اور ڈھابوں سے کھانا کھاتے تھے، مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا مسئلہ بن گیا ہے۔ ہمارے پاس کچن کا مناسب سامان نہیں تھا ہم تو ہوٹلوں پر گزارا کرتے تھے مگر اب وہ بھی بند ہیں۔‘

ہزاروں کی تعداد میں ان افراد کی واپسی کے طریقے کار اور شیڈول کے حوالے سے ابھی حکومتی نمائندوں کے پاس کوئی پلان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘پہلے این او سی مل جائے پھر فیصلہ کیا جائے گا کہ ان لوگوں کو کیسے اور کب واپس لے کر جانا ہے۔’

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

urUrdu
en_GBEnglish urUrdu